اتحادی حکومت میں تحریک انصاف دور حکومت کے سفارشی افسران تاحال براجمان، اسٹیل ملز میں غیر قانونی تعیناتیوں پر بہت جلد ایکشن ہوگا، مرتضی محمود

0
82

کراچی (مدثر غفور) تحریک انصاف کے دور حکومت میں ملک بھر کے سویلین اداروں میں لگائے گئے خلاف ضابطہ مروجہ قوانین کے خلاف سفارشی افسران تاحال اپنے عہدوں پر براجمان ہیں جو متحدہ حکومت کیلئے مشکلات کا سبب بن گئے۔ تحریک انصاف کے سابق وفاقی وزراء نے چُن چُن کر اپنے خاص لوگوں کو اداروں میں غیر قانونی طور پر تعینات کروایا۔ وفاقی وزیر صنعت و پیداوار کا کہنا ہے کہ میرے علم میں اسٹیل ملز میں غیر قانونی تعیناتیوں کی بات آئی ہے اور بہت جلد ایکشن ہوگا۔

تحریک انصاف کے دور حکومت میں وفاقی وزراء نے اپنے خاص لوگوں کو نوازتے ہوئے واپڈا، پاکستان مشین ٹول فیکٹری، اسٹیل ملز، پاکستان اسٹیٹ آئل، او جی ڈی سی ایل، کراچی پورٹ اور قاسم پورٹ میں غیر قانونی طور پر تعینات کروایا گیا جو تحریک انصاف کے سابق وفاقی وزراء کے مفادات کا تحفظ کرسکیں۔

زرائع کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار میں سابق سیکریٹری پیداوار ندیم افضال خود تو ٹرانسفر ہوگئے لیکن اپنے ہی سیکریٹری پیداوار ہوتے ہوئے تحریک انصاف لیبر ونگ پاکستان کے صدر سیمسن کی ملی بھگت سے مختلف اداروں میں غیر قانونی، خلاف ضابطہ اور مروجہ قوانین کے خلاف کانٹریکٹ پر چئیرمین، سی ای او، ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، جنرل مینجر اور منیجر جیسی پوسٹوں پر نااہل لوگوں مسلط کرکے چلے گئے، ان غیر قانونی تعینات افسران نے اداروں میں چوریاں، کرپشن اور اقربا پروری کا بازار گرم کردیا اور اتحادی حکومت میں تاحال براجمان ہیں جو وفاقی حکومت کیلئے مشکلات پیدا کررہے ہیں۔

سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد شہباز شریف نے وزیر اعظم کا حلف لیا تو فورا ہی ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ شروع کردی گئی اور بجلی کی کمی بتاکر میڈیا میں خوب اُچھالا گیا جب وزیر اعظم شہباز شریف نے عمران خان کے دور حکومت میں تعینات کئے گئے واپڈا کے چئیرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین کو عہدے سے برطرف کیا تو ملک بھر میں دوبارہ بجلی کی بحالی شروع ہوگئی۔

شہباز حکومت میں پٹرول و ڈیزل کی قیمت بڑھادی گئی ہے اور اسی طرح پی ایس او میں پٹرولیم مصنوعات میں ہیر پھیر سے اتحادی حکومت کو مشکلات کا سامنہ کرنا پڑے گا جبکہ دوسری طرف مشین ٹول فیکٹری، اسٹیل ملز، او جی ڈی سی ایل، کراچی پورٹ سمیت پورٹ قاسم میں تحریک انصاف کے وفاقی وزراء نے اپنے من پسند لوگوں کو اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے غیر قانونی، خلاف ضابطہ اور مروجہ قوانین کے خلاف اداروں میں تعیناتیاں کروائی ہیں۔

زرائع کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما سابق وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے کراچی پورٹ میں اور قاسم پورٹ میں اپنے خاص لوگوں کو چئیرمین اور اہم پوسٹوں پر غیر قانونی تعینات کرکے نوازا جبکہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سفارش پر فرنٹ مین لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان کو غیر قانونی طور پر ڈائریکٹر اے اینڈ پی اسٹیل ملز، سابق وفاقی وزیر صنعت پیداوار حماد اظہر نے غیر قانونی طور بریگیڈئیر ریٹائرڈ شجاع حسن خوارزمی کو سی ای او اسٹیل ملز، تحریک انصاف لیبر ونگ کے صدر بریگیڈئیر ریٹائرڈ سمیسن کی سفارش پر غیر قانونی طور پر کیپٹن ریٹائرڈ بابر برنارڈ میسی کو جنرل منیجر سیکورٹی اسٹیل ملز، اسی طرح پشاور میں تعینات اہم افسر کی سفارش پر واپڈا میں لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسن کو خلاف ضابطہ چئیرمین کی اہم پوسٹ پر غیر قانونی طور پر تعینات کرکے نوازا گیا تھا جنہیں بعد آزاں برطرف کردیا گیا۔

اداروں میں ان غیر قانونی تعیناتیوں کے خلاف مختلف کورٹس میں کیسز زیر سماعت ہیں اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے بھی خط کے زریعے سابق وزیر اعظم عمران خان سے ان تعیناتیوں کے بارے میں کئی سوالات پوچھے تھے جس پر اکثر لوگوں کو ہٹادیا گیا تاہم ابھی بھی اکثریت براجمان ہے جسے تاحال نہیں ہٹایا جاسکا۔

دی پاکستان اُردو نے ان غیر قانونی تعیناتیوں سے متعلق وفاقی وزیر صنعت و پیداوار مرتضی محمود سے موقف لینے کیلئے رابطہ کیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ میں کسی کے سیاسی طور پر خلاف نہیں ہوں لیکن ادارے میں جو پرفارمنس دے گا وہ رہے گا، جب نمائندہ نے مشین ٹول فیکٹری اور خاص طور پر اسٹیل ملز میں ہونے والی غیر قانونی تعیناتیوں سے متعلق سوال پوچھا تو وفاقی وزیر مرتضی محمود کا کہنا تھا کہ میرے علم میں اسٹیل ملز میں غیر قانونی تعیناتیوں کی بات آئی ہے اور میں نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے منٹس منگوائے ہیں اس پر بہت جلد ایکشن ہوگا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں