مجموعی قومی تشخص اور ہم

0
129

تحریر: سیّد شاہد پاشا

ہم پاکستانیوں کا مجموعی قومی تشخص یہ ہو چکا ہے کہ جو ہم چاہتے ہیں وہ ہم بولتے نہیں اور جو ہم بولتے ہیں وہ ہم کرتے نہیں اور جو ہم کرنا چاہتے ہیں وہ کبھی ہوتا نہیں، اسی لئے مختلف شکلوں کے سیاستدان بھانت بھانت کی بولیاں بول کے چکنی چپڑی باتوں میں عوام کو اُلجھا کر رکھتے ہیں اور مزے سے اپنا الو سیدھا کر لیتے ہیں۔

سوچا تھا کہ ایک ویبینار دو اپریل کو “نظریئے کے قیدی” کے عنوان سے کرتا ہوں اور کُچھ اہم باتوں پر دنیا بھر کہ سینئر کارکنان سے گفتگو کرتے ہیں، مگر رمضان کی آمد اور موجودہ ملکی صورتحال کے باعث مؤخر کرنا پڑا مگر جلد ہی اس کا انعقاد کرتا ہوں، مگر اس وقت تک تمام ساتھیوں کے Food for thought چھوڑنا ضروری سمجھتا ہوں۔

ہمارے ملک کی اسّی فیصد آبادی انتخابی سیاست میں حصہ ہی نہیں لیتی اور جو بیس فیصد کا اوسط ووٹ بینک ہے وہ مختلف سیاسی جماعتوں میں بٹا ہوا ہے جن میں کارکنان اور Diehard Supporters شامل ہیں جو اتنی بھی اخلاقی جرت نہیں رکھتے کہ اپنی لیڈرشپ کی غلط باتوں اور واضح کرپشن کے باوجود چُپ رہتے ہیں اور میں نہ مانوں کی مصداق اندھا دھند سپورٹ کرتے ہیں جس کی وجہ سے پاکستانی سیاست ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے، اور سیاستدان ایک کے بعد دوسرا جی بھر کر ہمار ملک کو لوٹ کر بھاگ جاتا ہے۔

دوسری طرف گھاگ سیاستدان ہیں جو الزامات در الزامات کی سیاست کی وجہ سے منظرِ عام پر آنے والی کرپشن کی ہر خبر کو مخالف سیاست دانوں کا منفی پروپیگنڈہ اور ہتھکنڈہ گردانتے ہوئے کنی کترا کر نکل جاتے ہیں۔

اب آپ ایم کیو ایم کی ہی مثال لے لیں، راقم الحروف نے ٹاپ لیڈرشپ میں پہنچنے کے بعد جو خرابیاں وہاں دیکھیں انہیں سُدھارنے کا بیڑا اٹھایا اور نہ صرف کرپٹ رہنماؤں کو للکارا بلکہ کارکنان کو بھی اُن رہنماؤں کی زندگی گذارنے کے انداز کو آشکار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کس طرح ٹوٹی پھوٹی موٹر سائیکلوں اور دو پٹی کی چپلوں میں آنے والے یہ رہنما آج ڈیفنس کلفٹن کے بنگلوں اور فارم ہاؤسز کے مالک بنے۔ مگر مجال ہے جو کارکنان نے جمع ہوکر ان کی جوتوں سے تواضع کی ہو؟؟ اور ان سے حساب مانگا ہو کہ قوم غریب سے غریب تر ہوگئی، ہزاروں کارکنان شہید ہوگئے، سیکڑوں لاپتہ ہوگئے، رہنما امیر و کبیر ہوگئے اور عشرت العباد سے لیکر فیصل سبزواری تک ایک دن بھی گرفتار نہیں ہوئے؟؟۔

ایک گروپ جس نے 2008ء سے 2013ء تک خوب چائنہ کٹنگ کی، پلاٹوں پر قبضے کئے، کارکنان کو اسلحہ دیا اور خوب ٹارگٹ کلنگ کروائی، رابطہ کمیٹی کے کرتا دھرتا رہے وہ سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی کے مصداق ایک دوسری پارٹی بنا کر حاجی ثناء اللہ بنے بیٹھے ہیں۔ مستقبل کا وزیراعظم اور وزیراعلی ہمارا ہوگا کے خواب دکھا کر کارکنان سے بتیا رہے ہیں، اور سلام ہے ان کارکنان کو جو سب کچھ جانتے ہوئے بھی ان کی باتوں میں مستا رہے ہیں۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی بھائی اور ڈاکٹر فاروق ستار بھائی سے اُمید لگائی کہ چلو یہ دونوں صاف ستھری شخصیات ہیں اور مل کر ایم کیو ایم کی ڈوبتی کشتی کو پار لگائیں گے مگر ہنوز دلی دور است کی تصویر بنے یہ دونوں رہنما لگتا ہے کہ اپنی اپنی اناؤں کے خول میں بند ہیں اور “سانوں کی” کی مصداق آج بھی نامعلوم وجوہات کی بنا پر ایک دوسرے کے لئے دستِ تعاون دراز کرنے سے گریزاں ہیں۔ وہ چہرے قومی سیاست میں ایم کیو ایم کی نمائندگی کرتے نظر آتے ہیں کہ جن کو ووٹ دینا تو درکنار عوام اور کارکنان بات کرنا بھی گوارہ نہیں کرتے ماسوائے سو دو سو ان کارکنان کے جو ان رہنماؤں کے آگے پیچھے جی بھائی جی بھائی کرتے پھرتے ہیں اور اپنے ذاتی مفادات کے حصول کی خاطر خوب چمچہ گیری اور چاپلوسی کرتے ہیں۔ جبکہ نظریاتی کارکنان و عوام تیزی سے لاتعلق ہو کر گھروں میں بیٹھ رہے ہیں، جس کی تازہ ترین مثال کراچی میں ہونے والے کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں بد ترین شکست ہے۔ اگر اب بھی ان دونوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے اور انہی کرپٹ چہروں کے ساتھ آنے والے الیکشن میں گئے تو لکھ کر رکھ لیں اب کی بار ایک سیٹ بھی ایم کیو ایم کو نہیں ملے گی، ریت میں سر دبا لینے سے خطرہ ٹلا نہیں کرتا۔

اب یہ آخری موقع کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی بھائی کے پاس ہے کہ آیا وہ صاف ستھرے ساتھیوں کو آگے لاکر رابطہ کمیٹی کو تحلیل کرکے ایک بہت بڑا جنرل ورکرز اجلاس بلائیں اور تمام کارکنان کی موجودگی میں صاف شفاف انٹرا پارٹی الیکشن کروا کر نئی مرکزی کمیٹی منتخب کریں۔ نئے آئین سمیت پوری ایم کیو ایم کی اصلاحات کا عمل شروع کریں یا پھر انتظار کریں کہ یہ کام بھی کارکنان خود ہی انجام دیں؟۔

کارواں کو خبر تھی منزل کی
رہنماؤں سے لڑا نہیں کوئی
سامنے تھا منزل کا نشاں
دو قدم بھی چلا نہیں کوئی

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں