حکومت خواتین کی تعمیر و ترقی کیلئے ہمہ وقت مصروف عمل ہے، ڈاکٹر شیریں مزاری

0
54

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ خواتین صحافی مشکلات کے باوجود اپنے فرائض عمدہ طریقے سے سرانجام دے رہی ہیں۔ خواتین صحافیوں کی صلاحیتوں میں مزید نکھار لانے کیلئے نیشنل پریس کلب کے ساتھ مل کر تربیتی ورکشاپس کرنے کیلئے تیار ہیں، دفاتر اور گھروں میں کام کرنے والی خواتین کو ہراساں کرنے کیخلاف قانون میں مزید شقوں کا اضافہ کیا ہے جس سے خواتین کو ہراسانی سے تحفظ حاصل ہوگا۔

انہوں نے یہ بات نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں این پی سی اور ایس ایس ڈی او کے اشتراک سے عالمی یوم خواتین کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، ڈاکٹر شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ حکومت خواتین کی تعمیر و ترقی کیلئے ہمہ وقت مصروف عمل ہے، وزارت انسانی حقوق نے ایک موبائل ایپ تیار کی ہے جس سے خواتین کو ہراسانی سے متعلق اپنی شکایات درج کرانا مزید آسان ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو ہراساں کرنے کے پرانے قانون میں موجود خامیوں کو ختم کرکے اس میں مزید شقوں کا اضافہ کیا ہے۔ اب اگر کسی گھریلو ملازم خاتون کو ہراساں کیا جائیگا تو وہ بھی اپنی شکایت درج کرا سکتی ہے، اس طرح کے قوانین سے خواتین میں تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عورت پہلے عورت، بعد میں کسی کی بہن، بیٹی، ماں یا بیوی ہے، لہذاٰ عورت کو صرف عورت سمجھ کراس کی عزت کو ترجیح دیں۔

صدر این پی سی انور رضا نے کامیاب تقریب کے انعقاد پرفنانس سیکرٹری نیئر علی اور نائب صدر مائرہ عمران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج کی خوبصورت اور پر وقارتقریب بہت شاندار ہے، بلاشبہ باصلاحیت اور پڑھی لکھی خواتین کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا، آپ نے اپنی محنت اور لگن سے یہ ثابت کیا ہے کہ خواتین معاشرے کی تعمیر کر سکتی ہیں، معاشرے کی بہتر ی ہم سب کا فرض ہے، جرنلسٹس پرو ٹیکشن بل وزیراعظم اور ڈاکٹر شریں مزاری کا احسن اقدام ہے، حکومت سے گزارش ہے کہ فوٹو اور ویڈیو جرنلسٹس کا معاملہ بھی فوری طور پر حل کریں۔

سیکرٹری نیشنل پریس کلب خلیل احمد راجہ نے کہا کہ جرنلسٹس پروٹیکشن بل ہو یا کچھ اور ڈاکٹر شیریں مزاری نے ہمیشہ صحافیوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کا ساتھ دیا ہے، اس قدر شاندار تقریب کے انعقاد میں نیئر علی اور مائرہ عمران کا کردار سب سے نمایاں ہے۔

فنانس سیکرٹری نیئر علی نے عالمی یوم خواتین پر اپنی ساتھی صحافی خواتین کی صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صلاحیتوں میں مزید نکھار لانے کیلئے انکی تربیت کے حوالے سے کام کر رہے ہیں جس کیلئے حکومت اور دیگر اداروں سے ملکر تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ بھی ایسی تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا جن سے خواتین صحافیوں میں مزید بہتر کام کرنے کا جذبہ پیدا ہوگا۔

تقریب سے ایس ایس ڈی او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید کوثر عباس نے بھی خطاب کیا، تقریب کی نظامت کے فرائض نائب صدر مائرہ عمران نے سرانجام دیئے، تقریب کے آخر میں وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کووڈ 19 کے دوران نمایاں خدمات پرخواتین صحافیوں فرح ربانی، اسما شوکت، خالدہ راجہ، نرگس جنجوعہ، بشریٰ اقبال حسین، نوشی رحیم، فوزیہ جبار، آمنہ عامر، صباء بجیر، عائشہ ناز، آمنہ الپیال، ارحم خان، شاہینہ مقبول، عائشہ بخاری، تبسم گل، آفتاب جہاں،زارا قاضی ، شمیم اشرف، حرا وحید، بینش عاطف، سدرہ بخاری، عائشہ شعیب، افشاں قریشی اور فرح ناز میں ایوارڈ بھی تقسیم کئے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں