عدالت نے سرسید کوآپریٹو ہاوسنگ سوسائٹی کی زمین پر مویشی منڈی لگانے سے روک دیا، اسٹیشن کمانڈر کا کام نہیں منڈیاں لگوانا، جج کے ریمارکس

0
72

اسلام آباد: سندھ ہائی کورٹ میں سرسید کوآپریٹو ہاوسنگ کی زمین پر مویشی منڈی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے سرسید کوآپریٹو ہاوسنگ سوسائٹی کی زمین پر مویشی منڈی لگانے سے روک دیا۔

جسٹس ظفر احمد راجپوت نے کنٹونمنٹ ملیر کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا بزنس کرنا آپ کے مینڈیٹ میں شامل ہے؟ جس پر وکیل کنٹونمنٹ بورڈ ملیر نے کہا کہ نہیں ہم تو صرف سروس فراہم کرتے ہیں اور کمشنر کی طرف سے کہا جاتا ہم تو سروس دیتے ہیں۔

جسٹس ظفر احمد راجپوت نے استفسار کیا کہ جہاں منڈی لگتی ہے کیا وہ زمین آپ کی ہے جس پر وکیل ملیر کنٹونمنٹ نے بتایا کہ زمین ہماری نہیں ہے ہم صرف سروس دینے کا کہا جاتا ہے۔

عدالت نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اسٹیٹ ہیں آپ کا کام نہیں ہے کاروبار کرنا اور اسٹیشن کمانڈر ملیر کسی سوسائٹی میں جاکر کہے کہ پارک کی زمین چاہیے منڈی کے لئے کس کی جرات ہے منع کرے۔ یہ اسٹیشن کمانڈر کا کام نہیں ہے منڈیاں لگوانا۔ وکیل ملیر کنٹونمنٹ نے عدالت کے روبرو کہا کہ مجھے حکام سے ہدایت لینے کے لئے مہلت دی جائے۔

وفاقی حکومت کے وکیل کے عدالت کو بتایا کہ منسٹری آف ڈیفنس کا اس منڈی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہمیں جواب جمع کرانے کے لئے مہلت دی جائے۔

عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ دو ہزار پندرہ میں درخواست دائر ہوئی ہے آپ نے 6 سال تک جواب کیوں نہیں جمع کرایا جس پر وکیل کنٹونمنٹ بورڈ نے کہا کہ لیز لائسنس ایگریمنٹ کے ذریعے منڈی لگائی جاتی ہے۔

جسٹس ظفر احمد راجپوت نے ملیر کنٹوبمنٹ بورڈ کے وکیل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے پوچھا کہ دیکھائیں کہاں ہے لیز لائسنس ایگریمنٹ؟۔

سرسید کوآپریٹو ہاوسنگ سوسائٹی کے بیرسٹر حسن خورشید نے عدالت کو بتایا کہ سرسید کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی کی زمین پر زبردستی دیواریں گرا کر منڈی لگادی جاتی ہے۔ مویشی منڈی سیکٹر 33 میں ہماری سوسائٹی کی زمین پر لگانے سے سارا ترقیاتی کام تباہ ہوجاتا ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ ملیر کنٹونمنٹ بورڈ حکام کو سوسائٹی کی زمین پر مویشی منڈی لگانے سے روکا جائے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں