بلوچ خواجہ سرا دہکتے انگاروں پر

0
241

تحریر: حفیظ بلوچ
xs2hafeez@gmail.com

عامر عرف گلناز بلوچ بلوچستان کا پہلا خواجہ سرا ہے جو صوبے کے پسماندہ ترین علاقے آوران سے حصول علم کے لئے لسبیلہ یونیورسٹی تک پہنچ گیا۔ منفی معاشرتی رویوں نے اس کا یہاں تک بھی پیچھا نہیں چھوڑا، مہر گڑھ کی قدیم تہذیب اور محبت و وفا کی عظیم داستانوں کی سرزمین پر گلناز کے وجود کو کلنک تصور کیا جارہا ہے۔

کچھ عرصہ قبل یونیورسٹی کی کسی تقریب میں دیگر طالب علموں اور اساتذہ نے روایتی انداز میں اپنی خوشی کا اظہار کیا، اس خوشی کا اظہار عامر عرف گلناز بلوچ نے رقص کرتے ہوئے کیا۔ ان کی یہ وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس کے بعد ان کو منفی انسانی رویوں کا سامنا ہے۔

تذلیل آمیز رویوں کو شکست دیتے ہوئے علم کی پیاس بجھانے کے لئے گلناز یونیورسٹی تک تو پہنچ گیا ہے مگر یہاں اس کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ سن کر انسانیت شرمسار ہوجائے۔ کبھی انہیں گرلز ہاسٹل تو کبھی بوائز ہاسٹل میں رکھا گیا لیکن گلناز کے بلند حوصلوں کے سامنے یونیورسٹی انتظامیہ نے مجبور کیا کہ وہ اپنی رہائش کا خود انتظام کرے بالآخر انہیں اساتذہ کے ہاسٹل میں ٹھہرایا گیا۔ پروفیسر حمید بلوچ اور دیگر اساتذہ کا ساتھ نہ ہوتا تو شاید عامر عرف گلناز کا یونیورسٹی کی تعلیم کو جاری رکھنا نا ممکن ہوتا۔

رقص کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے گلناز کے خلاف انکوائری شروع کی ہے۔ ہماری دلی خواہش ہے کہ انکوائری ضرور ہونی چاہیئے مگر گلناز کے خلاف نہیں اس شخص کے خلاف جس نے بدنیتی کے سبب وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کی۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ضلع خضدار کے اہم قد آور سیاسی شخصیت نے بھی رقص کی ویڈیو کو لے کر یونیورسٹی انتظامیہ پر برہمی کا اظہار کیا ہے جو انتہائی قابل افسوس عمل ہے۔

عامر عرف گلناز بلوچستان کے خواجہ سراؤں کے لئے امید کی کرن ہے اس تمام صورتحال میں بلوچستان حکومت کا کردار کہیں بھی نظر نہیں آرہا جو باعث تشویش ہے۔

بلوچستان کی سرزمین کا کردار ہمیشہ سے مثبت رویوں کو قبولِ عام کا درجہ دینے میں نمایاں رہا ہے اور جبر کے ماحول میں مزاحمتی تحریکوں کا مرکز رہا ہے مگر اس فطرت کے جبر کے سامنے خدا کی تخلیق کو طعن و تشنیع پر ملول کرنا بھی بلوچستان کے کے لئے شرم ساری کا مقام ہے۔

غالب نے شاید انہی حالات پر بر محل شعر کہا کہ

پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسدٓ
ڈرتا ہوں آئینہ سے کہ میں مردم گزیدہ ہوں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں