دوٹوک الفاظ میں کہتا ہوں کہ کوئی کمیٹی نہیں بنی ہے، مراد علی شاہ

0
11

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ کراچی کے مسائل حل کرنے کےلیے وفاق سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا، کمیٹی بنی نہیں صرف بات ہوئی ہے، سندھ کے اختیارات کے ساتھ کسی کو چھیڑچھاڑ نہیں کر نے دیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ سندھ میں ہم اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہم نے سب سے پہلے کورونا کے خطرے کا احساس کیا جبکہ وفاقی حکومت اور بقیہ صوبے اس بارے میں زیادہ سنجیدہ نہیں تھے لیکن ہماری کارکردگی دیکھ کر سب سے اس کی پیروی کی۔ کورونا سے متعلق سب سے پہلے ہم نے اقدامات کئے، پاکستان میں کورونا کیسز کم ہوئے ہیں ختم نہیں ہوئے۔انہوں نے میڈیا کے مالکان اور نمائندوں سے درخواست کی کہ اس ملک کے لوگوں کی جان بچانے کے لیے ایک مثبت کردار ادا کریں، تکلیف ہر کسی کو آئی ہے لیکن جان سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان چاروں صوبوں پر مشتمل ہے اور آئین میں صوبوں کی حدود بھی  موجود ہیں، کچھ دوست کبھی آئین کو توڑنے کی بات کرتے ہیں تو کبھی سندھ میں گورنر راج کی باتیں ہوتی ہیں۔ سندھ کی تقسیم کی بات کرنے والوں کو پاکستان کا دشمن سمجھتا ہوں، آئین میں دیے گئے اختیارات کسی کے ساتھ شیئر نہیں کریں گے، کسی کے دماغ میں یہ فتور ہے تو نکال دے، ایسی باتوں سے سندھ کے لوگوں کو دکھ پہنچتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی میں تقریر کے دوران کہا تھا کہ سندھ ہماری ماں ہے اور جو ہماری ماں کے ٹکڑے کرنے کی جو بات کرے گا ہم سب اس کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے، میں اس طرح کی باتیں کرنے والوں کو سندھ کا نہیں بلکہ پاکستان کا دشمن کہوں گا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کچھ لوگ اپنی کم عقلی میں یہ باتیں کر جاتے ہیں، ان کو سمجھ نہیں آتی لیکن میں ایک بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ کسی بھی حالت میں کوئی بھی سندھ صوبے، سندھ اسمبلی اور سندھ حکومت کی آئین میں موجود ایگزیکٹو پاورز کسی کے ساتھ شیئر نہیں ہوں گی۔ انہوں نے پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے درمیان کراچی کے بارے میں مل کر کام کرنے کے حوالے سے اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صرف مذاکرات ہوئے ہیں، کسی قسم کا معاہدہ نہیں ہوا۔ ہم صرف ایک بات کہتے ہیں کہ ہم آئین اور قانون کے حساب سے کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں دوٹوک الفاظ میں کہتا ہوں کہ کوئی کمیٹی نہیں بنی ہے، کمیٹی بننے کی بات ہوئی ہے، وہ کمیٹی بنے گی تو صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کی ہو گی کیونکہ ایگزیکٹو رول کے لیے سیاسی جماعتوں کی کمیٹی نہیں بنتی، سیاسی جماعتوں کی کمیٹیاں سیاسی کاموں کے لیے بنتی ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ جو ہماری حکومت کے منصوبے ہیں اس میں بہت سی رکاوٹیں ہیں، پیسوں کا مسئلہ ہے، ہمیں کہا گیا تھا کہ پچھلے سال 835ارب روپے دیے جائیں گے اور 589 ارب روپے دیے گئے، 245 ارب کم دیے گئے کیونکہ آپ کلیکشن نہیں کر سکے۔ اگر دو سال تک ایف بی آر کی شرح نمو صفر فیصد ہے تو اس میں میرا قصور تو نہیں ہے، ان کو سدھاریں۔ وزیراعلی سندھ نے مزید کہا کہ چیئرمین این ڈی ایم اےسےنالوں کی صفائی پر تفصیلی بات ہوئی۔ عدالتی احکامات کےبعد وفاقی وزراسےملاقات کی، پہلی مرتبہ سندھ حکومت نےبڑے نالے خود صاف کئےہیں ۔ 2009 میں شہرمیں 24 گھنٹوں میں 125 ملی میٹربارش ہوئی، تنقید کی جاتی ہے کہ سندھ حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ ابھی تک کوئی آرڈیننس کمیٹی نہیں بنی، نارتھ ناظم آباد کو کمرشلائزکردیاگیا، کس نے کیا کیا، میں اس کی تفصیلات میں نہیں جاناچاہتا لیکن ثابت کر سکتا ہوں شارع فیصل 5گھنٹے سے زیادہ بند نہیں رہی، جب لوگ کام کررہےتھے توانہیں روکنےوالا کوئی نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم 3 باربھی بلائیں گے تو صوبے کی خاطر جاؤں گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں