بھارت سرکار کی سازش ایک دفعہ پھر بے نقاب ہوگئی، شاہ محمود قریشی

0
0

اسلام آباد: وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت سرکار کی سازش ایک دفعہ پھر بے نقاب ہو گئی ہے، یعنی گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔

انتخابات سے پہلے بی جے پی سرکار کو کافی دقت ہو رہی تھی پانچ ریاستوں میں انہیں شکست ہوئی ہے اور چنانچہ ہوا سازگار بنانے کیلئے بی جے پی سرکار نے صرف سیاسی مقصد کے تحت خود حملہ کروا کر اپنے 40 فوجیوں کو مروایا اور ان لاشوں پر سیاست کی۔

بھارت نے جب پلوامہ کا ناٹک رچایا تو ہم نے فوری طور پر اسے مسترد کیا اور اسے ایک جھوٹ کا پلندہ قرار دیا تھا۔ اس سازش میں، آر ایس ایس کے نظریہ کی پیروکار بی جے پی سرکار اور ان کے ایک میڈیا ہاؤس کا گٹھ جوڑ سب کے سامنے واضح ہو چکا ہے۔

آج ہندوستان کے غیر جانبدار صحافی اس گٹھ جوڑ پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ یکم اگست کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں دو لاکھ فوج بھجوائی اور بہانہ بنایا کہ انہیں یاتریوں کی حفاظت مقصود ہے۔ دو لاکھ فوج بھیجنے کا اصل مقصد 5 اگست کے اقدامات کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانا تھا۔

14 نومبر کو ہم نے ایک ڈوزئیر کے ذریعے بھارت کی جانب سے دہشتگردی کی پشت پناہی کے ناقابل تردید ثبوت دنیا کے سامنے رکھے۔ ای یو ڈس انفولیب کی رپورٹ نے ہندوستان کے مذموم عزائم کو مزید بے نقاب کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ خطرناک لوگ ہیں یہ اپنے سیاسی مقاصد کیلئے پورے خطے کے امن کو تہہ و بالا کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور عالمی برادری کو ہمارے ڈوزئیر میں پیش کردہ ٹھوس شواہد اور ان حالیہ انکشافات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بھارت کو ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے۔ اس ہمارے میڈیا کا بہت بڑا امتحان ہے – ہندوستان کا میڈیا، بی جے پی سرکار کے پروپیگنڈہ ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہا ہے پاکستانی میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہندوستان کے جھوٹ کو بے نقاب کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ وہ پاکستانی اینکرز، صحافی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں وہ قومی خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔میڈیا نے جب دنیا کے سامنے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حقائق رکھے تو برطانوی پارلیمنٹ کے دس اراکین نے بھارت کے جھوٹے دعووں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ میڈیا کی طرف سے حقائق سامنے آنے پر یورپی یونین میں کشمیر کے حوالے سے بحث کا آغاز ہوا اور میڈیا نئی امریکی انتظامیہ کو باور کروائے کہ ہندوستان کے عزائم خطے کے امن و استحکام کیلئے کس قدر خطرناک ہو سکتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں