پاکستان اسٹیل جنسی ہراسگی کیس ری اوپن، انسانی حقوق ڈیپارٹمنٹ نے سی ای او اسٹیل ملز سے جواب طلب کرلیا

0
180

کراچی (مدثر غفور) وزارت صنعت و پیداوار کے قابل اعتماد زرائع کے مطابق وزیراعظم پاکستان کے پورٹل پر شہری کی جانب سے درج کی گئی شکایت پر پاکستان اسٹیل جنسی ہراسگی کیس کو ری اوپن کردیا گیا۔

پاکستان اسٹیل میں جنسی ہراسگی کیس میں شہری کی جانب سے 23 دسمبر 2021 کو وزیر اعظم پورٹل پر جنسی ہراسگی کیس کو دبانے کی تفصیلی شکایت درج کی گئی اور شکایت میں اسٹیل ملز کے سی ای او کی جانب سے وفاقی محتسب اعلی میں جنسی ہراسگی کیس کے مرکزی کردار ڈائریکٹر اے اینڈ پی لیفٹننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان اور سابق جی ایم سیکیورٹی کیپٹن ریٹائرڈ بابر برنارڈ میسی دیگر کو بچاتے ہوئے وزیر اعظم پورٹل پر ‘میٹر سبجیوڈیسائڈ’ جواب دے کر کلوز کرنے کی کوشش کی۔

سی ای او اسٹیل ملز نے جواب میں لکھا کہ معزز شہری آپ کی شکایت کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ اس لیے اس سطح پر کارروائی دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ مزید، آپ کی شکایت میں غیر قانونی مواد بھی شامل ہے۔ لہذا، مذکورہ بنیاد پر آپ کی شکایت کو سسٹم سے خارج کیا جا رہا ہے اور آپ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ ایسی شکایات بھیجنے سے گریز کریں ورنہ آپ کی رجسٹریشن معطل کر دی جائے گی۔ تاہم سیکریٹری انسانی حقوق ڈیپارٹمنٹ نے دوبارہ وزیر اعظم پورٹل پر شکایت کا حوالہ دیتے ہوئے سی ای او اسٹیل ملز کو کیس ری اوپن کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے حوالے میں لکھا کہ پی ایم کے دفتر وی او کے ذریعے بحث کی روشنی میں شکایت کو دوبارہ کھولا گیا ہے۔ نمبر 1 (2)/ DS (PMDU)/2018 (INS) مورخہ 17 نومبر 2020 کا جواب طلب کرلیا۔

دی پاکستان اُردو نے جنسی ہراسگی کیس کرنے والے اسٹیل ملز کے سابق ملازم اکرم دھامنہ سے رابطہ کرنے پر سوال پوچھا کہ کیا وزیر اعظم پورٹل پر آپ نے شکایت درج کروائی ہے تو جواب میں اُن کا بتانا تھا کہ میں نے 5 اکتوبر 2020 کو سی ای او پاکستان اسٹیل کو جنسی ہراسمنٹ ایکٹ 2010 کے تحت 7 ملزمان کے خلاف درخواست دی تھی مگر سی ای او پاکستان اسٹیل نے بد نیتی کی بنا پر بااثر ملزمان کے خلاف نہ خود کوئی کارروائی کی اور نہ ہی میرا کیس 2010 کے ایکٹ کے تحت بنائی گئی کمیٹی کے سپرد کیا جبکہ وہ قانوناً اس بات کا پابند تھا۔ اس طرح وہ مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوا۔ بعد ازاں سی ای او پاکستان اسٹیل نے مجھے مرکزی ملزم کے دستخط سے ہی ریٹرنچمنٹ پالیسی کی آڑ میں ٹرمینیٹ کروایا اور این ڈی سی کلیر ہونے کے باوجود میرے سروس واجبات دینے سے انکار کیا۔ وفاقی محتسب برائے جنسی ہراسمنٹ کے آرڈر سے مجھے واجبات ادا کیے گئے۔

اکرم دھامنہ کا مذید بتانا تھا کہ 12 اکتوبر 2020 کو میں نے شکایت نمبر 86/2020 وفاقی محتسب برائے جنسی ہراسمنٹ کے کراچی آفس میں درج کروائی تھی۔ مجھے اُمید ہے کہ محترم احسن علی جتوئی اور میڈم کشمالہ طارق مجھے انصاف فراہم کر کے قانون کا بول بالا کریں گے۔

دی پاکستان اُردو نے موقف لینے کیلئے سی ای او اسٹیل مل بریگیڈئیر ریٹائرڈ شجاع حسن کو جنسی ہراسگی کیس ری اوپن ہونے سے متعلق ڈائریکٹر اے اینڈ پی لیفٹننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان اور سابق جرنل منیجر سیکیورٹی کیپٹن ریٹائرڈ بابر برنارڈ میسی دیگر کے کیس کی موجودہ اپڈیٹ کے بارے میں سوال واٹس ایپ کیا تو سی ای او اسٹیل ملز نے جواب میں لکھا کہ سی ای او اسٹیل مل میڈیا رپورٹس میں اپنا موقف دینے کیلئے فری نہیں ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں