ماں کی گود زخمی

0
20

خصوصی تحریر: عبدالقیوم خان نیازی

گزشتہ چند روز سے وطن عزیز میں ایک عجیب سی بے چینی پیدا ہے۔ جس کی سنو وہ مظلوم ہے پر یہ سمجھ نہیں آرہی ظالم کون ہے۔ آج جس انداز سے لاہور میں نہتے مسلمانوں پرگولیاں چلاٸی گٸیں اس کی ماں (وطن) خود اپنی گود میں زخموں پر رو رہی ہے۔ جانے کتنے لہو کے بے گناہ چھینٹے کس کے کہنے پر گرے یا گراٸے جارہے ہیں باعث حیرت ہے اور جنہیں روکنا بہت ضروری ہے۔

 تحریک لبیک پاکستان  کےساتھ ماضی میں کیے گٸے قومی معاہدوں کی پاسداری کس کی زمہ داری تھی؟۔ کروڑوں مسلمانوں کےدل زخمی ہیں فرانس کے سفیر کا معاملہ تاحال کھٹائی میں ہے لیکن اس سے پہلےجو یہ کھیل کھیلا جارہا ہے کس کی مجبوری تھی۔ کون ہے وہ جو یہ سب کچھ کروارہا ہے؟۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ مجھے بے شمار نکتہ چینیوں کابسامنا بھی کرناپڑے گا لیکن بحیثیت ایک صحافی و قلمکار اتنے بڑےظلم کو دیکھ سن کر چپ رہنا موت تصور کرتا ہوں۔

پاکستانی تاریخ میں اتنا بڑا ظلم کبھی نہیں ہوا ہوگا، پاکستان بننے کے وقت جس طرح لوگوں نے جانیں قربان کی تھیں آج 5 رمضان المبارک ہے لوگ آج بھی لاہور کی سڑکوں پر شہادتیں پیش کر رہے ہیں۔ پورے پاکستان میں یکم رمضان المبارک سے لوگوں کو شہید کیا جا رہا ہے لوگوں کو جیلوں کے اندر بھی تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کیا جا رہا ہے۔

افسوس اس بات کا ہے کہ آج کلمہ گو مسلمانوں کو شہید کرنے والے انگریز نہیں بلکہ کلمہ گو ہیں۔ آج اگر انگریز اس طرح کرتا تو اس کو نیست و نابود کر کے رکھ دیا جاتا۔ مگر قربان جاٸیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں پر کہ انہیں اس بات کا اندازہ ہے کے ملک اپنا ہے پولیس اپنی ہے اور موجودہ حکومت جو یہود و نصاریٰ کو خوش کرنے کی خاطر ظلم کے پہاڑ ڈھا رہی ہے اس نے سدا تو نہیں رہنا۔

اس لئے حضور کے غلام بغیر کسی خوف و ڈر کے اپنی شہادتیں دے رہے ہیں اور ہماری حکومت وہ جنہیں عزیز ہے تو انڈیا کا پائلٹ عزیز ہے جس چائے پلا کر واپس کر دیتی ہے۔ ادھر اپنے ملک کے عوام کو خون میں نہلا رہی ہے دن رات قتل عام کیا جا رہا ہے۔ جب کشمیر لینے کی بات کرو تو کہتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں مذاکرات سے کشمیر لیں گے مگر آج یہی حکومت کیوں بھول رہی ہے کہ اپنے عوام کو شہید کرنا کون سے مسئلہ کا حل ہے۔

کیوں لوگوں کو شہید کیا جا رہا ہے؟ کیا حکومت اسی چیز کا نام ہے کہ جو جی میں آئے کرتے جائیں ناں بھائی نا۔

یاد رکھنا! تماری گولیاں اور شیل ختم ہو جائیں گی کلمہ گو مسلمانوں  کے سینے ختم نہیں ہوں گے۔ کیوں ماں کی گود اپنے ہی بےگناہ لہو سے سرخ کرکے ظلم کی داستان لکھی جارہی ہے آپ بھی زرا سوچیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں