حکومت کو 23 مارچ سے پہلے فارغ کر دیا حائے ورنہ

0
59


تحریر: اجمل ملک (ایڈیٹر نوشتئہ دیوار)

یہ یقینا ایک انتہائی عجیب بیان ہے کہ میں نے خود بھی کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں کبھی ایسا بھی کر سکتا ہوں۔ جس سے ملک کے جمہوری نظام کی بساط لپیٹنے کی بات ہو لیکن میں پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ سمجھتا ہوں کہ اگر 23 مارچ تک اس حکومت کی بساط نہ لپیٹی گئی تو یہ ملک مکمل طور پر آئی ایم ایف کی جھولی میں چلا جائے گا۔ کیونکہ آئی ایم ایف نے مذید قرض دینے کیلئے 24 مارچ تک کی مہلت دی ہے اس سے پہلے ہماری یہ شرط مان لی جائے کہ انکم ٹیکس میں دی گئی چھوٹ کو ختم کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک کو “بااختیار” ادارہ بنایا جائے لہذا حکومت نے وقت کی کمی کا بہانہ بنا کر بل اسمبلی میں پیش کیئے بغیر کابینہ سے منظور کروا لیا ہے اور ریزولیشن بھیجی جا رہی ہے۔ یہ ایک انتہائی خطرناک کام ہونے جا رہا ہے اگر یہ بل منظور ہوگیا تو پاکستان مکمل طور پر آئی ایم ایف کے کنٹرول میں چلا جائے گا۔ مسئلہ صرف انکم ٹیکس میں چھوٹ کا نہیں ہے اس بل میں موجود دیگر شقوں کے مطابق اسٹیٹ بینک کا گورنر “مالیاتی وائسرائے” بن جائے گا اور وہ اس ملک کے وزیر اعظم آرمی چیف سمیت جس کو بھی چاہے عہدے سے ہٹا سکے گا لیکن اسے کوئی نہیں ہٹا سکے گا۔ یہ بل یقینا واشنگٹن میں مرتب ہو کر آئی ایم ایف کے ذریعے پاکستان پر لاگو کیا جا رہا ہے کیونکہ اب پاکستان نے امریکی تسلط سے نکلنے کیلئے پروگرام پرعمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ چین کے علاوہ روس اور دیگر پڑوسی ممالک کے ساتھ روابط شروع کر دیئے ہیں۔ بھارت بھی سمجھ رہا ہے کہ امریکہ سات سمندر پار سے ہمارے خطے میں فساد پھیلانے اور اپنا اسلحہ فروخت کرنے کیلیئے بیٹھا ہوا ہے۔


لہذا اس ساری صورتحال کو بھانپ کر امریکہ نے آئی ایم ایف کے ذریعے پاکستان پر “مالیاتی حملہ” کر دیا ہے اور ہمارے حکمرانوں کی اکثریت اس کے ہولناک نتائج سے لاعلم ہے۔ بہترہے کہ 23 مارچ کو ہونے والے مارچ کا رخ بنی گالہ کی طرف پھیر دیا جائے دراصل موجودہ حکمرانوں کے ارد گرد شہزاد رائے جیسے افراد کا گھیرا ہے جن کا تعلق براہ راست عالمی این جی اوز کے ساتھ ہے۔ انہوں نے موجودہ حکمرانوں کو “عالمی اداروں کی امداد سے “اچھے کاموں” کا جھانسہ دے کر اپنے دام میں پھانس لیا ہے۔ ان شاطر لوگوں نے ایسے وقت کا انتخاب کیا ہے جس وقت ملک کی تمام سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کے خلاف دست و گریباں ہیں۔ حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کی بھی ساری توجہ اپنے لئے ایک دو وزارتیں حاصل کرنے ہی مرکوز ہے۔ اپنے مین اسٹریم میڈیا کا تو ذکر ہی کیا وہاں تو ایسے کوتاہ ذہن لوگ بیٹھے ہیں جنہیں بین الاقوامی معاملات کا شعور ہی نہیں ہے۔


ایک اہم چینل کے عبدالمالک نے اس پر کچھ بات کی ہے بقیا بیچارے تو وہی نواز شریف زرداری کھیل میں مصروف ہیں اگر ملک کی دینی جماعتوں کی طرف نگاہ دوڑائی جائے تو وہاں زیادہ برا حال ہے۔ ہمارا مفتی اعظم تقی عثمانی تو پہلے ہی اسٹیٹ بینک کے تحت چلنے والے اس مروجہ بینکنگ سسٹم پر “شرعا حلال” کی اسٹمپ لگا کر ان سود خوروں کا ساتھی بن چکا ہے دیگر دینی جماعتوں کا بھی بہت برا حال ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر جلوس نکالتی رہتی ہیں۔ ملک پر آئی ایم ایف قابض ہونے جا رہی ہے۔ انہیں ان باتوں کا ادراک تک نہیں ہے حالانکہ اگر کسی کو شعور ہو تو آئی ایم ایف کا پاکستان پر یہ “مالیاتی حملہ” بغداذ پر چنگیز خان کے حملے سے بھی زیادہ خطرناک ہے اس سے پورا پاکستان نہ صرف گروی ہو جائے گا بلکہ بے اختیار بھی ہو جائے گا۔ آپ کا ایٹمی پروگرام سمیت ہر چیز آئی ایم ایف کے کنٹرول میں چلی جائے گی لیکن ان نام نہاد دینی رہنمائوں کی تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے نازک دور میں کبھی کوئی مثبت کردار ادا نہیں کیا جب بغداد پر چنگیز خان حملہ آور ہو رہا تھا تو یہ مولوی بحث میں مصروف تھے کہ فرشتہ سوئی کے ناکے سے گذر سکتا ہے یا نہیں۔ یہ جاہل آج تک اپنی روایت دوہرا رہے ہیں آج بھی ایسے فتوے دینے میں مشغول ہیں کہ چائے اور قہوہ پینا اسلام میں جائز نہیں ہے۔ دوسری طرف بڑے مدارس کے مہتمم حضرات عوام کو فرقہ پرستی کی لعنت میں الجھا کر چندے بٹورنے میں مصروف ہیں۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ عالمی سطع پر مسلمانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اگر جہاد کی بات کریں گے تو وہ بھی امریکن ڈالر کے عوض جس سے صرف امریکی مفادات کی تکمیل ہو ان “ملائوں” نے ہمیشہ حکمرانوں کے درباروں میں دینی احکام کو فروخت کیا ہے۔ اسلام کا ایک واضع قانون ہے کہ کوئی بھی جاگیردار صرف اتنی ہی زمین اپنے پاس رکھ سکتا ہے جتنی وہ خود اور اس کا خاندان کاشت کر سکتا ہو۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اسلام کےصرف اس ایک قانون سے اس ملک کی غربت ختم ہو سکتی ہے لیکن “دین فروش ملا” نے بادشاہوں کے دربار میں ااس واضع حکم کو تبدیل کر دیا۔


ہمارے اخبار کے چیف ایڈیٹر سید عتیق الرحمان گیلانی گذشتہ 25 سال سے امت مسلمہ کو متحد کرنے اور ان کے درمیان موجود علمی مغالتوں کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا تعلق خانقاہی نظام سے بھی ہے انہیں خانقاہ الہیہ کے پیر کامل حاجی محمد عثمان نے اپنا خلیفہ مجاز مقرر کیا ہوا ہے لیکن انہوں نے خانقاہ سے نکل کر انقلابی جدوجہد شروع کی ان کے قریبی رفقا جانتے ہیں کہ سید عتیق گیلانی باطنی نظام سے منسلک ایک پیر کامل بھی ہیں۔ وہ ۃمارے اخبار کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ جب انہوں نے علمی شمارہ مارچ شمارہ 2 میں اخبار کی مین لیڈ میں یہ لکھا کہ “وزیر اعظم کا ذہنی توازن چیک کرنے سے پہلے اس کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے کہیں تمام ریاستی و حکومتی اداروں اور ان کے سربراہوں کو فارغ کرکے پور ی دنیا میں تماشا نہ بن جائیں”۔ یہ الفاظ میرے لئے انتہائی حیرت کا باعث تھے کیونکہ وہ 25 سال سے اخبار نکال رہے ہیں لیکن انہوں نے کبھی ایسے الفاظ نہیں لکھے ان کے یہ الفاظ آئی ایم ایف سے متعلق بل آنے سے پہلے کے ہیں۔ اب مجھے اندازہ ہو رہا ہے کہ یہ ان کی فراست تھی جس کے تحت انہوں نے بھانپ لیا کہ ملک میں کیا ہونے جا رہا ہے۔ اسی لئے انہوں نے یہ پیغام دیا مسلم شریف کی حدیث کے الفاظ ہیں کہ “مومن کی فراست سے ڈرو وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے”۔ اپنی ساری زندگی بلا معاوضہ اقامت دین کی جدوجہد کرنے والا سید عتیق گیلانی زیادہ نہیں تو کم از کم مومن ضرور ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں