تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کو رات 12 بجے عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا

0
147

اسلام آباد: تحریک انصاف کی رہنما ‏شیری مزاری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کر دیا گیا۔ ‏شیریں مزاری اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے دوران وکیل نے سوال پوچھا کہ آپ کی طبعیت کیسی ہے جس پر شیریں مزاری نے کہا کہ میں بالکل ٹھیک ہوں، آج جبری گمشدگی کو خود محسوس کیا، میں نے پولیس کو بیٹی کو کال کرنے کا کہا اس کی بھی اجازت نہ ملی، میرے ساتھ جو کچھ ہوا سب عدالت کو بتاؤں گی۔

شیریں مزاری کیس میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آپ کہ حکومت میں بھی کچھ نہیں ہوا، یہاں جبری گمشدگیاں ہوئیں لیکن کچھ نہیں کیا گیا، جب آئین کا احترام نہیں ہو گا تو یہ ہوتا ہے۔ عدالت نے ‏شیریں مزاری کا فون قبضے میں لینے کے بعد رہا کر دیا گیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے شریں مزاری کیس میں حکم دیتے ہوئے کہا کہ ‏اسلام آباد ہائیکورٹ پہلے ہی حکم دے چکی اسپیکر قومی اسمبلی کی اجازت کے بغیر کسی رکن اسمبلی کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا بظاہر ڈاکٹر شیریں مزاری کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا۔

ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ‏وفاقی حکومت کو واقعے کا علم ہی نہیں تھا، عدالت جو حکم دے گی ہم عمل کریں گے، ہم عدالت کے مشکور ہیں کہ عدالت نے رات اس پہر سماعت کی، سیاسی جماعت کو اب یہ ماننا پڑے گا کہ عدالت رات کو آئینی تحفظ کے لیے موجود ہے۔

اطہر من الّٰلہ نے شیریں مزاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ‏آپ کی حکومت میں اس سے بھی بڑے واقعات ہوۓ تھے اگر آپ آئین و قانون کا احترام نہیں کرینگے تو آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔

عدالت نے شریں مزاری سے پوچھا کہ آپ کو کس نے گرفتار کیا تو ان کا کہنا تھا کہ مجھے لگتا رانا ثناء اللہ اور شہباز شریف ملے ہوئے ہیں۔

آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ میری تو آج ہی تعیناتی ہوئی ہے جس پر ‏اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو شیریں مزاری کو گھر میں بھی سیکورٹی دینے کا حکم دے دیا۔

‏چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللّٰہ نے شیریں مزاری کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ اگر صحافی مطیع اللّٰہ جان کے اسلام آباد میں اغوا کی درست انکوائری کی جاتی تو دوبارہ ایسے واقعات پیش نہ آتے لیکن یہ عدالت شیریں مزاری کی گرفتاری کا حکم دینے والے کا پتہ ضرور لگائے گی۔

یاد رہے تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کے خلاف یہ ایف آئی آر اپریل میں درج کی گئی تھی جب عثمان بزدار پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں