خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

0
10

تحریر: رفیع شاکر راجن پوری

ویسے تو کورونا کی وجہ سے پوری دنیا میں ہی مہنگائی آئی ہے کچھ حد تک اور کچھ البتہ یہاں کی ایماندار قوم کے تاجروں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ کچھ بیرونی قرضوں کا بوجھ کچھ ہماری بیورو کریسی کی کرپشن نااہلی سابقہ حکمرانوں سے گہرے مراسم چالوں اور کچھ اپنا مال پانی بند ہوتا دیکھ کر کرپٹ بیورو کریسی کا غصہ کرنے کام نا کرنے یا الٹا ہی کرنے کی وجہ سے اور کچھ ہماری پاکستانی قوم کی اپنی ایمانداری کی وجہ سے آج مہنگائی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

 ہم پاکستانی عوام ایک دوسرے کی کھال اچھے سے اتار رہے ہیں اگر کوئی چیز 10 روپیہ مہنگی ہو تو ہم پچاس بڑھا دیتے ہیں اور اسی طرح سب شعبہ ہائے زندگی کے لوگ لگے ہوئے ہیں۔ ایک دوسرے کو لوٹنے میں اصل مسئلہ مہنگائی نہیں ہے جس کا رونا ہم سب روتے ہیں، آپ سعودیہ میں چکن کی پلیٹ ہوٹل پر بیٹھ کر کھائیں اور پاکستانی کرنسی میں اس کی پرائس 6 سو روپے سے 7 سو روپے پاکستانی بنتی ہے جبکہ وہاں کی کرنسی میں وہی بیس یا پچیس ریال کی ہوگی۔ اسی طرح سعودیہ اور دبئی جاکر کسی بھی مستحکم کرنسی والے ملک میں آپ کچھ خرید لیں آپ کو پاکستانی روپوں میں کئی گناہ مہنگی لگے گی۔ اگر وہاں رہنے والا انسان ہر وقت کلکولیشن کرے تو کھانا پینا پہننا شاپنگ کرنا ہی چھوڑ دے کہ یار اتنی مہنگی مگر وہاں پر لوگ مزے سے کھاتے ہیں خریدتے ہیں پہنتے ہیں۔  مہنگائی کا رونا بھی نہیں روتے وجہ سمجھ آگئی ہوگئی آپ کو بھی اصل مسئلہ کرنسی کی ڈی ویلیو ہے۔

اب بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے ہمارے ملک سے پیسوں کی نکاسی زیادہ ہے جبکہ آمد کم ہے یعنی روپیہ پر بہت زیادہ پریشر ہے۔ ڈالر باہر زیادہ جا رہا ہے دوسرا سب سے بڑا مسئلہ ہمارے ملک میں منی لانڈرنگ کی بہت بڑی وجہ سے بھی ہمارا روپیہ مستحکم نہیں کو پا رہا ہے۔ ابھی ابھی ایک نیا اسکینڈل سامنے آرہا ہے پاکستانی میڈیا پر کہ شوگر ملز مالکان نے 110 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی ہے۔ مطلب پیسہ غیر قانونی طریقے سے باہر نکل گیا اور جو جو گل کھلایا پچھلے حکمرانوں نے کمرشل سود پر قرضے لے کر فضول منصوبوں کے لیے جن کو چلانے کے لیے آج اربوں روپے سالانہ خسارہ کی وجہ سے سب سڈری دینی پڑتی ہے۔ جیسے لاہور کی اورنج ٹرین اسی طرح اپنا کمیشن کھرا کرنے کے لیے پانچ سے چھ روپے والی ایل این جی پندرہ روپے میں سائن کر لی گئی جس سے بجلی کی پروڈکشن و دیگر چیزوں میں جہاں وہ استعمال ہوتی ہے مہنگی کرنا پڑ گئیں یہی مہنگی ایل این جی جیسے بڑے بڑے منصوبوں پر اپنا کمیشن تو کھرا کر لیا گیا مگر عوام آج ان کو بھگت رہی ہے۔ آپ کو شائد اس بات کا احساس ہی نہیں کہ کتنا پریشر ہے ہماری کرنسی پر دوسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ عمران خان کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے۔ جس سے وہ سارے چوروں کو پکڑ کر سزا دلوا سکے یا لوٹ مار روک سکے مکمل طور پر کیونکہ موجودہ حکومت میں بھی یہ سیاستدان بھی تو وہی چور ہی ہیں جو ہر حکومت میں شامل ہوتے ہیں اور وہی کرپٹ بیوروکریسی جو ہر حکومت کی کرپشن کے ساتھ ہی پلتی رہتی ہے۔ اب ان کو جو مزے لگے ہوئے تھے وہ ان کو یاد کرتے ہیں اور موجودہ دور میں کرپشن ریٹ بڑھنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ اب خطرہ زیادہ ہے کہ پکڑے گئے تو بہت کچھ ہوسکتا ہے تو رسک زیادہ تو کرپشن ریٹ بھی زیادہ ہوگیا۔ البتہ یہ ضرور فرق ضرور پڑ گیا کہ اب کرپشن کو کرپشن اور

غلط سمجھا جاتا ہے اور کہیں کہیں ایکشن بھی ہو جاتا ہے۔

اب یہ نہیں کہا جاتا کہ کھاتا ہے تو لگاتا بھی تو ہے مطلب کرپشن کو کرپشن ہی نہیں سمجھنے لگے تھے ہم لوگ بلکہ دلیلیں دینا شروع ہوگئے تھے۔ جو کسی قوم کی اخلاقیات کا جنازہ نکل جانے کا ثبوت ہے کہ وہ کرپشن کو کرپشن ہی نا سمجھے عمران خان سے اچھا مخلص لیڈر یا حکمران میری نظر میں کوئی متبادل نہیں ہے جو حقیقی معنوں میں ملک و قوم سے مخلص ہے اور وہ کوششیں بھی کر رہا ہے۔

ستر سالوں کا گند اور جو ان سب مافیاز چوروں کی جڑیں اندر تک پھیلی ہوئی ہیں ان کو کاٹنے میں کچھ وقت لگ رہا ہے۔ عمران خان قانون میں تبدیلیاں چاہتا ہے بہتری چاہتا ہے مگر اکثریت بھی نا ہے اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے صوبے بااختیار ہیں بہت سے مسائل ہیں گو کہ ہم پاکستانی ہر آنے والی حکومت پر انگلیاں اٹھاتے ہیں اور چلاتے رہتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اچھا برا حکمران ہمارے اپنے اعمال کی سزا جزا ہوتے ہیں ہم اپنے آپ کو اگر آج ٹھیک کر لیں حق سچ کا کام کریں اور بات کریں صرف باتوں سے بھی کچھ نہیں ہوتا ہے عمل ضروری ہے اب وقت آگیا ہے کہ پاکستانی قوم ہر کرپٹ کو بے نقاب کرے۔ اس کا راستہ روکے اس سے نفرت کرے اس کو معاشرے میں عزت نا دی جائے بلکہ کرپٹ لوگوں سے معاشرہ بائیکاٹ کرنا شروع کر دے تو اس ملک و قوم میں بہتری آسکتی ہے۔

 ترکی میں جب لیرا ان کی کرنسی بہت زیادہ ڈاؤن ہوگی تھی ملک مقروض تھا قوم کی حالت بہت بری تھی معاشرہ برائیوں بے حیائی میں گھرا ہوا تھا ترکی مکمل یورپ جیسا بے حیا آزاد بن چکا تھا۔ جب ترک صدر رجب طیب اردوغان آیا اس نے اپنی قوم ملک کو سنبھالا یورپ کو چھوڑ دیا پابندیاں برداشت کیں قرضے اتارے قوم نے ساتھ دیا صرف پیاز ٹماٹر یعنی سالن کی سبزی کا مسالا خریدنے کے لئے ان کو ہزار ہا پانچ سو کے لگ بھگ لیرا دینا پڑتا تھا تو بھی لوگ نہیں گھبرائے اور ترک صدر رجب طیب اردوغان کا ساتھ دیا۔ آج ترکی ترقی کرچکا ہے ان کو یہ پتا لگ گیا تھا کہ یہ ہمارا صدر رجب طیب اردوغان کرپٹ نہیں ہے اور سچ میں ملک و قوم کا درد رکھتا ہے وہ اس کے ساتھ کھڑے ہوگئے حتی کہ فوج کے کچھ لوگ مغربی طاقتوں کے اکسانے پر اس کی حکومت گرانے کو آگے آئے تو وہ لوگ ٹینکوں کے آگے سینہ سپر ہوگئے۔

 آج وقت آگیا ہے کہ ہم بھی لیڈر اور بھاگ جانے والے گیدڑوں کی پہچان کریں جو ہر وقت ہمارے دکھ درد کے ساتھی ہوں اچھی سوچ رکھنے والے پڑھے لکھے لوگ ہوں کرپٹ نا ہوں باہر جائیدادیں بنانے والے نا ہوں جن کا مرنا جینا ہمارے درمیان ہو ان کا ساتھ دیں۔ اس فرسودہ نظام اور اس کے ستر سالوں سے آ رہے نظام اور ان کرپٹ نا اہل لوگوں کو ٹھکرا کر اچھی اور مثبت سوچ ولولہ ویژن کے ساتھ آگے بڑھیں اور اچھے لوگوں کو آگے لائیں۔ اس تبدیلی کی ابتدا اپنے شہر گاؤں گلی محلے سے کریں بلکہ میں اور آپ اپنی ذات سے کریں تاکہ روایتی سیاست و لوٹ مار اقربا پروری سے بچ سکیں۔ جو عرصہ دراز سے ہماری رگوں میں سرایت کر چکی ہے اب سب سے پہلے مجھے اور آپ کو بدلنا ہوگا ورنہ کچھ نہیں بدلے گا۔ ہم دوسروں کے معاملات میں جج بن جاتے ہیں اور خود کچھ کرنا ہی نہیں چاہتے ہیں جبکہ اپنے اوپر کوئی بات اجائے تو ہم قابل ترین اپنے ہی وکیل بن جاتے ہیں صفائیاں دینے کے لیے اپنی ہی معزرت کے ساتھ۔

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی،
نا ہو خیال جسے اک اپنی حالت کے بدلنے کا۔۔۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں