چند دن باقی

0
133

تحریر: عاجز جمالی

ملک کس طرف جا رہا ہے؟ کون کس کو نیچا دکھا رہا ہے۔ اگلی باری کس کی ہے؟ کس کا باب بند ہوگا اور کس کا باب کھلے گا؟ نومبر ستمگر ثابت ہوگا یا نومبر میں کسی کو نجات ملے گی۔ کون پھنسے گا کون گرفتار ہوگا۔ کس کس کو رہائی ملے گی اور کس کو قید خانے میں ڈالا جائے گا۔

ارشد شریف کا قتل، عمران خان کا لانگ مارچ، تاریخ میں پہلی بار ڈی جی آئی ایس آئی کی پریس کانفرنس ہر کڑی سے کڑی جُڑی ہوئی ہے۔ مارچ تک عمران خان بھی ان کا تھا۔ ارشد شریف بھی ان کا تھا تو اے آر وائی بھی ان کا تھا۔ اپریل سے کھیل الٹا ہوگیا۔ ساری تدبیریں الٹی ہوگئیں۔ عمران خان سے اقتدار گیا تو سب کچھ گیا۔ حالانکہ اسٹبلشمنٹ کے دوست کبھی ایسے نہیں کرتے۔ وہ صبر کرتے ہیں۔ تو پھر دوبارہ اقتدار بھی مل جاتا ہے۔ مگر عمران خان اُتاولا انقلابی بن گیا۔ بہت جلدی میں تھا یا پھر اقتدار جانے کا صدمہ برداشت نہ کر سکا۔ عمران خان اگر میڈ اِن پاکستان کی سیاست کو جانتا تو گجرات کے چوہدریوں سے ہی سیکھ لیتا۔ نواز شریف اور زرداری سے تو وہ سیکھ نہیں سکتا۔

عمران خان کرکٹ کے اچھے کھلاڑی ہوں گے مگر اس کو شطرنج نہیں آتا۔ وہ بازی پلٹنا چاہتا تھا مگر بساط ہی پلٹ ڈالی۔ پھر گذشتہ 6 ماہ کے دوران عمران خان جو کچھ کرتا رہا وہ مالکوں کے خلاف کرتا رہا۔ گدھا بیشک گھاس سے دوستی نا ہی کرے مگر گدھا جب مالک کو لات مارے گا تو پھر مالک تو بہرحال مالک ہوتا ہے۔

اب کیا ہوگا؟ سوال تو روایتی سا ہے مگر جواب بھیانک نظر آ رہا ہے۔ واوڈا کہتا ہے لانگ مارچ خونی ہوگا لاشیں ہی لاشیں گریں گی۔ یہ جواب بھی بھیانک ہے مگر ڈی جی صاحبان کہتے ہیں کہ کسی کو بھی ملک کو غیر مستحکم کرنے نہیں دیں گے۔ ڈی جی صاحبان نے ارشد شریف قتل کی کَڑیاں کے پی سرکار اور اے آر وائی سے جوڑ دی ہیں۔ رانا ثناءاللہ نے ریڈ زون خاکیوں کے حوالے کردیا ہے۔ لبرٹی چوک سے ریڈ زون تک کیا ہوگا؟ جواب پھر بھی بھیانک ہے۔ تو پھر جہاد کا کیا ہوگا؟ حقیقی آزادی کا کیا ہوگا؟ لانگ مارچ کا کیا ہوگا؟ معافیاں تلافیاں ہوں گی یا وقت گذر گیا۔

میرا خیال ہے کہ ڈی جی صاحبان کی پریس کانفرنس نے گھنٹی بجا دی۔ معافی کی کھڑکی بند کردی۔ نیا چیف آنے والا ہے جو نومبر کو ستمگر ہونے سے بچا بھی سکتا ہے یا پھر ستم پر ستم ہوگا۔ تقسیم در تقسیم ہوگا۔ حقیقی آزادی کے پھر کتنے ٹکڑے ہوں گے پتہ نہیں۔ واوڈا نے تو سینے پر ہاتھ مار لیا ہے سن رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں کئی پہلوان اس طرح سینے پر ہاتھ مار کر میدان میں کُودنے والے ہیں۔ سو نومبر اہم ہے جس میں تقدیروں۔ تدبیروں کا ہی نہیں ملک کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ہے۔ اسی نومبر میں بہت کچھ ہونا ہے۔ پھر پتہ لگ جائے گا کہ کون میر جعفر تھا تو کون صادق تھا ؟ یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ جہاد اور حقیقی آزادی کا مارکیٹ میں ریٹ کیا تھا؟ یہ بھی پتہ لگ جائے گا کہ کون ملک میں رہتا ہے۔ کون مشرف، نواز اور زرداری کی پیروی کرتا ہے؟ بس چند دن اور باقی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں