چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کے جھوٹ پر جسٹس طارق مسعود نے بھی خط لکھ دیا

0
119

اسلام آباد: جسٹس طارق مسعود نے بھی چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطاء بندیال کے جھوٹ پر خط لکھ دیا۔ ‏جسٹس طارق مسعود نے جسٹس قاضی عیسٰی فائز کے مؤقف کی تائید کر دی۔

‏پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایک چیف جسٹس کے خلاف دو سینئیر ترین ججز میدان میں آگئے۔ ‏سپریم کورٹ کے دو سینئر ترین عزت مآب ججز جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس طارق مسعود کی گواہیوں کے بعد ثابت ہو گیا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سپریم جوڈیشل کونسل بارے حقائق چھُپائے اور قوم سےجھُوٹ بولا۔

جوڈیشل کمیشن کے ممبر سپریم کورٹ کے دوسرے
‏سینئر ترین جج جسٹس سردار طارق مسعود نے  خط کے ذریعے چیف جسٹس عمر عطاء بندیال سے کہا ہے کہ انہوں نے ججز کے تقرر کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں غیر جمہوری رویہ اپنایا اور بعد ازاں میڈیا کو جاری کیے گئے بیان میں اجلاس کی کارروائی کے حوالے سے غلط بیانی کی ہے۔

جوڈیشل کمیشن کے ‏گزشتہ روز کے اجلاس سے متعلق جسٹس طارق مسعود نے لکھا ہے کہ ترجمان سپریم کورٹ کی طرف جاری کردہ اعلامیہ میں جوڈیشل کمیشن اجلاس کا مختلف نقطہ نظر پیش کیا گیا۔ اجلاس میں پانچ ججز کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کو اکثریت کے ساتھ مسترد کیا گیا۔

جسٹس طارق مسعود کے مطابق انہوں نے چیف جسٹس ‏اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ کو سپریم کورٹ میں بطور جج تعیناتی کی تجویز دی۔ ملک بھر کی ہائیکورٹس میں اطہر من اللہ سنیارٹی لسٹ میں دوسرے نمبر پہ ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ترجمان سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز حقائق کے منافی ہے، تین گھنٹے تک جاری رہنے والے جوڈیشل
‏کمیشن اجلاس میں موخر کرنے کی کوئی تجویز نہیں آئی، واضح اکثریت کے ساتھ نامزدگیوں کو مسترد کیا گیا۔

جسٹس طارق مسعود نے کہا کہ غلط بیانی کی گئی ہے کہ چار اراکین جوڈیشل کمیشن نے اجلاس موخر کرنے کا کہا، ترجمان سپریم کورٹ کا جوڈیشل کمیشن کا رکن ہے نہ ہی سیکریٹری جوڈیشل کمیشن ہے۔

خط کے‏ مطابق چیف جسٹس غیر معمولی اور غیر جمہوری عمل کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ لکھوائے بغیر اچانک اُٹھ کر چلے گئے۔ گردش کرتی افواہوں کو روک کر اجلاس کے اصل منٹس جاری کیے جائیں۔

یاد رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خط کے بعد سردار طارق نے بھی چیف جسٹس عمر عطاء بندیال پر بجلیاں گرا دی اب دیکھنا یہ ہے غلط بیانی کرنے اور جھوٹ پر مبنی گمراہ کن پریس ریلیز جاری کرنے پر صدر عارف علوی چیف جسٹس عطا بندیال کے خلاف ریفرنس بھیج سکتے ہیں یا نہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں