لاپتہ افراد کیس، عدالت پراسیکیوٹر جنرل سندھ پر شدید برہمی کا اظہار

0
12

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کیس میں ایف آئی آر درج کرنے پر پراسیکیوشن کی اپیل کی کیس میں پراسیکیوٹر جنرل سندھ سے اپیل دائر کرنے پر وضاحت کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دیدیا۔

جسٹس قاضی عیسی فائز کی سربراہی میں بینچ کے روبرو لاپتہ افراد کیس میں ایف آئی آر درج کرنے پر پراسیکیوشن کی اپیل پر سماعت ہوئی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پراسیکیوٹر جنرل سندھ فیض ایچ شاہ پر شدید برہم ہوگئے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کیا یہ پولیس اسٹیٹ ہے؟ آئین اور قانون کی دھجیاں بکھیرنا بند کریں۔ آئین اور قانون کو مذاق بنا رکھا ہے۔ کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟۔ پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے موقف دیا جی ایسا نہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس میں کہا کہ بالکل ایسا ہی ہے، آپ سہولت کاری کا کام کر رہے ہیں۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیئے دکھ ہوا ریاست ایک ایف آر درج ہونے کے خلاف عدالت آئی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے آپ کا کام کیا ملزمان کو تحفظ دینا ہے؟ کیا آپ ایس ایچ او ہیں جو ایف آئی آر درج کرنے نہ کرنے کا فیصلہ کریں گے؟۔

محمد اقبال پٹیل نے کہا کہ میرے بھائی محمد ندیم پٹیل کو سی ٹی ڈی انچارج راجا عمر خطاب نے اغوا کیا۔ سندھ ہائی کورٹ نے راجا عمر خطاب کے خلاف ایف آئی آر کا حکم دیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پی جی سے استفسار کیا کہ بتائیں، آپ نے کس حثیت میں یہ اپیل دائر کی؟ عدالت نے ریمارکس دیئے کیا راجا عمر خطاب اتنا طاقتور ہے کہ آپ کے ادارے کو چلا رہا ہے؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس میں کہا کہ راجا عمر خطاب کے بجائے آپ کو اپیل کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ آپ کو ایس ایچ او کے اختیارات کب سے مل گئے؟ جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دکھ ہوا کہ ریاست ایک ایف آئی آر کے خلاف اپیل کر رہی ہے۔ کم از کم اتنا تو حق دیں کہ نام شامل ہوسکے کہ کس نے اغوا کیا۔ ایف آئی آر غلط درج ہو تو کٹوانے والے کے خلاف آپ کا حق ہے۔

پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے موقف دیا کہ ایف آئی آر درج ہو جائے تو ہمیں اب کوئی اعتراض نہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایف آئی آر درج کرکے کیسی پر احسان کیا کیا؟ کیا احسان کر رہے ہیں یہ کرکے، آپ کی ذمہ داری ہے۔ یہ کون سی طریقہ ہے، جو مرضی آئے وہ کریں۔ کس قانون کے تحت آپ نے یہ فیصلہ کیا؟ عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل سندھ سے اپیل دائر کرنے پر وضاحت طلب کرلی۔ سپریم کورٹ نے پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو پیر کو وضاحت کے ساتھ دوبارہ پیش ہونے کی ہدایت کردی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں