کامل طریقہ ہائے جمہوریت عوام کی خودمختاری کے نفاذ کی ایک نئی شکل ہے

0
35

بیجنگ (شِنہوا): چین کی کامل طریقہ ہائے جمہوریت عوام کی خودمختاری کو نافذ کرنے کی ایک نئی شکل ہے جو عمل اور نتائج پر مبنی جمہوریت، طریقہ کار کی جمہوریت اور اصل جمہوریت، براہ راست جمہوریت اور بالواسطہ جمہوریت کے ساتھ ساتھ عوامی جمہوریت اور ریاست کی مرضی کے اتحاد کو آگے بڑھاتی ہے۔

چین کی شِنہوا نیوز ایجنسی کے تھنک ٹینک نیو چائنہ ریسرچ کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق چینی عوام کو ریاستی اختیار میں بڑے پیمانے پر حصہ لینے کا حق حاصل ہے۔ یہ حق چین کے جمہوری انتخابات، جمہوری مشاورت، جمہوری فیصلہ سازی، جمہوری انتظام اور جمہوری نگرانی کے تمام پہلوؤں میں مجسم ہے۔

کامل طریقہ ہائے جمہوریت عوام کی خودمختاری کے نفاذ کی ایک نئی شکل ہے

انسانیت کی مشترکہ اقدار کی پیروی – جمہوریت، آزادی اور انسانی حقوق کے لیے چین کا نقطہ نظر نامی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کی کامل طریقہ ہائے جمہوریت کو حکام کےانتخاب، ریاستی امور پر غوروخوض، پالیسیوں کی تشکیل اور اختیار کے استعمال کی نگرانی کے ذریعے بخوبی بیان کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چینی طریقہ کار میں حکام کے انتخاب کے لئے اخلاقی دیانتداری، پیشہ ورانہ قابلیت اور ماضی میں حکومتی کارکردگی چناؤ کے لیے بنیادی تقاضے ہیں جس میں قابل اہلکاروں کا تعین کرنے کے لیے جمہوری انتخاب شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپریل 2021 تک عوامی کانگریس کے 26 لاکھ 20 ہزار نائبین میں سے 94 فیصد کا تعلق کاؤنٹی اور ٹاؤن شپ کی سطح سے تھا، جو کہ سب ہی براہ راست ایک فرد ایک ووٹ کی بنیاد پر منتخب ہوئے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کامل طریقہ ہائے عوامی جمہوریت عوامی پالیسی سازی کے پورے عمل میں شہریوں کی شرکت پر زور دیتا ہے، جو لوگوں کی مجموعی دانش پر روشنی ڈالتے ہوئے بہترین حل تلاش کرنے کے لیے شہریوں کو فیصلہ سازی سے پہلے، اس کے دوران اور بعد میں حصہ لینے کی اجازت دیتا ہے اور لوگوں کے باخبر ہونے، شرکت کرنے، سنے جانے اور نگرانی کے حق کی حفاظت کرتا ہے۔
چین کی قومی مقننہ نے اپریل 2021 تک 230 مواقع پر قوانین کے مسودوں پر عوام کی رائے مانگی۔

رپورٹ کے مطابق چین کی جمہوری طرز حکمرانی میں پالیسی سازی کے سائنسی طریقے پر زور دیا جاتا ہے اور قومی اقتصادی و سماجی ترقی کے پا نچ سالہ منصوبے کے خاکے اور دیگر پالیسیاں جمہوری فیصلہ سازی کے طریقہ کار کی احسن طریقے سے وضاحت کرتی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نچلی سطح پر مکمل احترام کے ساتھ نظرآنے والا جذبہ، اور نچلی سطح کے تجربے کا مرکزی حکومت قومی اصلاحات کی فیصلہ سازی میں اچھے طریقے سے استعمال کرتی ہے۔

یہ بھی واضح ہے کہ چین ادارہ جاتی انتظامات بھی بروئے کار لاتا ہے تاکہ قانون کے مطابق اختیار کے استعمال کو ترتیب دینا، منظم کرنا، روک تھام کرنا اور نگرانی کرنا ہے۔ اسی طرح قانون کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اختیارات کا استعمال ادارہ کی حدود میں ہو۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں