واجب قربانی کے پیسے تقسیم کرنے سے قربانی ادا نہیں ہوگی، مفتی نعمان نعیم

0
68

 
 کراچی: جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم اور معروف مذہبی اسکالر مفتی نعمان نعیم نے کہاہے کہ قربانی کے پیسے غربا میں تقسیم یارفاہی کاموں میں لگانے سے قربانی ادا نہیں ہوگی، عیدالاضحی کے دن اللہ تعالی کی بارگاہ میں جانور کا خون ہی بہایا جانا محبوب ترین عمل ہے، قربانی ہر صاحب نصاب مسلمان عاقل بالغ، مقیم، مرد عورت پر مستقل واجب ہے، قربانی کے حوالے سے مشکلات اور مسائل کے سدباب کیلئے اجتماعی قربانی بہترین ذریعہ ہے، عوام الناس کی سہولت کیلئے ہر سال جامعہ بنوریہ عالمیہ میں علما کرام کی زیر نگرانی اجتماعی قربانی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز جامعہ بنوریہ عالمیہ اجتماعی اور آن لائن قربانی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر انہوں نے اجتماعی اور آن لائن قربانی کے انتظامات کا جائزہ بھی لیا۔ انہوں نے کہا کہ د ور حاضر میں انفرادی و اجتماعی حوالے سے گونا گوں مسائل کے حد درجہ اضافہ کی وجہ سے لوگوں کو قربانی میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے، ایس او پیز، مہنگائی، جگہ کی تنگی، جسمانی امراض، دھوکا دہی اور شرعی شرائط کی روشنی میں جانور کی خریداری کرنا یا حفاظت سے گھر تک پہنچانا اور قصائی کی تلاش وغیرہ کے امور ایک عام آدمی کیلئے مشکل بنتے جارہے ہیں۔ عوام کی سہولت کیلئے ہی دینی اداروں میں اجتماعی قربانی کا اہتمام کیا جاتا ہے ، تاکہ قربانی کا فریضہ شرعی تقاضوں کے مطابق مفتیان کرام کی زیر نگرانی ادا کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ جامعہ بنوریہ عالمیہ بھی طویل عرصہ سے اجتماعی اور آن لائن قربانی کا اہتمام کررہا ہے، جس کے لیے ہیڈ آفس کے علاوہ شہر بھر میں مراکز بھی کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ قربانی حضرت ابراھیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کی قربانی کی یادگار ہے عیدالااضحی کے دن اللہ تعالی کی بارگاہ میں جانور کا خون ہی بہایا جانا محبوب ترین عمل ہے۔ اگر کوئی واجب قربانی کے بدلے سونا چاندی خرچ کرے یارقم سے کوئی خیراتی یا رفاہی کام کرے، تو اس سے قربانی نہ کرنے کا گناہ معاف نہیں ہوگا،خ۔

انہوں نے کہاکہ قربانی ہر مسلمان عاقل، بالغ، مقیم مرد عورت پر یکساں یعنی مستقل طور پر واجب ہے جو صاحب نصاب ہو یعنی شرعا جس کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے برابر ضرورت سے زائد رقم یا تجارتی جائیداد ہو قربانی واجب ہونے کیلئے ان اشیاء پر سال کا گزرنا ضروری نہیں جس طرح زکوة میں ضروری ہوتا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں