سندھ پولیس کے شریف

2
35

 تحریر:طحہ عبیدی

 سوچ رہا تھا کراچی میں سیاسی جماعتوں کے الیکشن کے بعد خفیہ ملاقاتوں کے حوالے سے کچھ لکھوں۔ ایک پارٹی دوسری میں ضم کرنے کی کوشش ہورہی ہے کراچی کے بلدیاتی سسٹم میں کون آئے گا اور کون جائے گا جیسے معاملات پر اہم اجلاس بھی ہوچکے ہیں یا پھر سوچ رہا تھا۔

کراچی کے پوش علاقے میں ڈاکٹر لڑکی یا پھر کراچی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کرنے والی طالبہ نے خودکشی کیوں کی حقائق بیان کروں لیکن میرا ضمیر مجھے جھنجھوڑتا ہے کہ یہ معاملات تو چلتے رہتے ہیں۔ نیا سیاسی سیٹ بھی آجائے گا اور خودکشی تو کوئی نئی بات ہے نہیں لہٰذا دل کی آواز پر سندھ پولیس کے شریفوں پر نظر ڈالنے کی کوشش کرتا ہوں تاکہ ان افسران کے ساتھ ذیادتی نہ ہوجائے۔

 قمبر شہداد کوٹ میں سالولی پولیس چوکی کے انچارج احمد خان اسمگلرز سے خفیہ ڈیل کررہے تھے جس میں لاکھوں روپے کا لین دین ہے اس ڈیل میں ایس ایس پی کا نام آگیا تو حیرانی ہوئی ایس ایس پی عمران قریشی جیسے ایماندار افسر کا نام اس خفیہ ڈیل میں کیسے آگیا۔ یہ سریاب میں تعینات تھے پھرسندھ میں مٹھی، نوشہرو فیروز ضلع میں تعینات کردیئے گئے۔ ایسے ایماندار افسران کو تو پوسٹنگ سے ہٹنا ہی نہیں چاہئے، اتنے قابل افسر اتنی جلدی پوسٹنگز سے کیسے ہٹا دیئے گئے اس پر تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینی چاہئے۔ کوئی بتا رہا تھا ایک افسر گٹکے والے کی زمین پر قبضہ کرنا چاہتے تھے وہ سینٹرل پولیس آفس شکایت لے کر آگیا اور پوسٹنگ سے فارغ کردیا گیا۔ اب یہ الزام ایمان داروں پر لگتے ہیں تو حیرانگی ہوتی ہے، ایک ایس ایچ او مہراب پور تھے شہاب کولاچی جن پر الزام لگا دیا گیا کہ انہوں نے صحافی عزیز میمن کے قتل میں ملوث مبینہ ملزم کو بیس ہزار روپے میں چھوڑ دیا اور اب یہ افسر قمبر شہداد کوٹ میں پولیس کا سسٹم سنبھالتے ہیں۔ یہ بڑے افسر کے چہیتے ہیں اور چہیتے کیوں نہ ہوں بڑے کام کے افسر جو ہیں۔

ساسولی پولیس چوکی کے انچارج کے خلاف تحقیقات شروع ہوگئی تو میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے اب کیا ہوگا اتنے ایمان داروں کے خلاف تحقیقات ہوگی تو سندھ پولیس میں کام کون کرے گا۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اعلی افسران بھی سمجھتے ہیں اس لیے یہ فائل بند کردی گئی ہے۔ اب کراچی میں دیکھ لیں کائونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ نہ ہو تو امن و امان خراب ہوجائے اس لیے وہاں انتہائی ایماندار افسر تعینات کیے جاتے ہیں۔ ماضی میں تو کائونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ نے مچھیروں کو “را” کا ایجنٹ بنادیا تھا وہ تو بس عدالت سمجھ نہ سکی اور جج نے جیب سے پیسے دے کر ان ایجنٹوں کو ٹھٹھہ روانہ کردیا۔ اب ان باتوں سے مایوسی تھوڑی ہوتی ہے اور نہ حوصلے پست ہوتے ہیں، ابھی کی تو بات ہے اینٹی نارکوٹکس فورس نے مخبر کے مدد سے “سی ٹی ڈی” کے افسر سے چرس خریدی اور پھر انہیں عہدے سے ہٹادیا گیا۔ اب “کائونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ” کوئی چرس کا اڈہ تو ہے نہیں کہ کوئی بھی چرس خریدلے لہٰذا اعلی افسران نے اس ایماندار افسر کو نوکری پر بحال کرکے دوبارہ سی ٹی ڈی میں تعینات کردیا۔ اب اعجاز بٹ نامی پولیس افسر نے چرس نہیں بیچی بلکہ تاجر ماجد کو لاکھ دو لاکھ روپے لے کر چھوڑ دیا ایسا کیسے ہوسکتا ہے میں اس الزام کی بھی تردید کرتا ہوں۔ سی ٹی ڈی اور پیدا گری الگ الگ باتیں ہیں یہ ڈیپارٹمنٹ کو بدنام کرنے کی کوشش ہے میرا مطالبہ ہے اعجاز بٹ کے خلاف جو مقدمہ درج کیا گیا وہ واپس لے کر انہیں تیسری مرتبہ سی ٹی ڈی میں تعینات کیا جائے۔

اب سندھ پولیس میں ایک انتہائی ایماندار ہیں “عدو ڈان” جو آج کل سینٹرل پولیس آفس میں تعینات ہیں ان کی ایمانداری کے چرچے سندھ پولیس میں مشہور ہیں لیکن لوگ انہیں بھی بدنام کرتے ہیں۔ ان کے خلاف ایڈیشنل آئی جی امیر شیخ، ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ایس ایس پی سینٹرل عارف اسلم رائو نے تحقیقات شروع کی یہ افسر انکوائری کمیٹی کو سوالات کے جوابات نہ دے سکے اور نوکری سے برطرف ہوگئے۔ میں بھی حیران ہوگیا سابق ایڈیشنل آئی جی کے اتنے ایماندار پی ایس او کے خلاف شواہد جمع کرکے انتقام لیا گیا ہے جس کے بعد عدنان بم بحال ہوگئے اور عامر فاروقی سندھ پولیس چھوڑ گئے یہ ہوتا ہے انصاف اور یہ ہوتی ہے تحقیقات۔ آئی جی سندھ پولیس سے گزارش ہے کہ ان افسران سے تربیتی ورکشاپ کرائیں تاکہ دوسرے افسران کو بھی کچھ سیکھنے کا موقع ملے۔

 

2 تبصرے

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں